Elegy 01 : Tragedy of Karbala

Elegy in urdu language which is called 'Noha'.
Here it is Zainab (pbuh) grand daughter of Prophet Muhammad who comes to the threshold of Husayn Ibn Ali (pbuh). She is very sad as she can feel upcoming tragedy(battle of Karbala). Sakeena (pbuh)the daughter of Husayn Ibn Ali(pbuh) tries to console her but she too predicts and believes in tragedy which they have to suffer from. The conversation between Zainab (pbuh) and Sakeena (pbuh) is described briefly in Elegy.
Written by : Mirza Sharafat Hussain Zarafshan Beigh
 

آئی زینب ہے چوکھٹ پہ بھائی کی
سکینہ بی بی پریشانی کا سبب پوچھے گی
سہمی سانسوں سے اتنی اہیں بھرتی کیو ہو
پپھی اما کے نینوں سے ہے آنسوں جو گرے
ہر نظر میں وہ دیکھتی ہے بابا کی طرف
یاد آتا ہے اسے کیسے ہم تڑپے گے
چچا کے بازووں کو بابا کہا ڈھونڑے گے
رن میں میرے اکبر کے
رن میں میرے اکبر کے پا خط کھینچے گے
باتوں باتوں میں میری بالیاں بھی چھینے گے
پپھی اما تم خرا را اثر مت لینا
ورنعہ بابا کے نیزے سے آنسوں اترے گے
میری آہوں کو چھپانا ذرا تم ان سے
ورنعہ تانے ملے گے لعینوں سے