Sehmi Saansey : Urdu Poem

Mirza Sharafat Hussain collects nostalgia and a single verse relating to Karbala Battle in this poem. Poem is free of metre with rhyme scheme "aabacadaea"



َ


آج کچھ میرے اندر سہمی سی سانسیں گردش  میں ہیں
بڑی  مددت  سے آنکھیں نم کسی  کی خواہش  میں ہیں
شاید کچل دئے  ہیں تم نے آج  میرے  خواب  رن  میں
میرے   پننے  آرزو   کے    بھیگے   بارش   میں ہیں
وہ  عباس  کے  دست  جو  گِر  پڑے  پانی کے  ہمراہ
پردے کے پیچھے دشت میں مسلم ہی  سازش میں  ہیں
سُنا ہے اپنی قطاریں  تیری راہ  گزر  سے  جاتیں نہیں
مُجھے  غم  نہیں یہ لگیں محمد  کی  سفارش  میں ہیں
گُل تشنہ ہیں  بکھرے  شرافتؔ  کے گُلشن  میں جیسے
بے  جان  دھانوں  کی  نمائش  میری  رہائش  میں ہیں